باس[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہوا میں پائی جانے والی ایک کیفیت جسے شامہ محسوس کرتا ہے، محض بو (اچھی یا بری سے قطع نظر)۔  خوردنی کی ہو جس زمیں پر باس جمع واں کر کے اپنے ہوش و حواس      ( ١٧٨٠ء، سودا، کلیات، ٣٣٢ ) ٢ - خوشبو، مہک (قرائن کے ساتھ مستعمل)۔ "کنوارے جسم میں کومل کومل باس تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، سرود رفتہ، ٩٧ ) ٣ - بدبو، سٹراند، ہراند (قرائن کے ساتھ مستعمل)۔ "جب مصالحہ کی باس کم ہو جائے تو باقی اس کا شیرہ بھی ڈال دیں۔"      ( ١٩٣٢ء، مشرقی مغربی کھانے، ٨٢ ) ٤ - ادنیٰ آثار، شائبہ، نشان، علامات۔ "بھلمنساہت کی باس نہیں ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٢٧:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'واس' ہے۔ اردو زبان میں اس سے ماخوذ 'باس' مستعمل ہے۔ اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - خوشبو، مہک (قرائن کے ساتھ مستعمل)۔ "کنوارے جسم میں کومل کومل باس تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، سرود رفتہ، ٩٧ ) ٣ - بدبو، سٹراند، ہراند (قرائن کے ساتھ مستعمل)۔ "جب مصالحہ کی باس کم ہو جائے تو باقی اس کا شیرہ بھی ڈال دیں۔"      ( ١٩٣٢ء، مشرقی مغربی کھانے، ٨٢ ) ٤ - ادنیٰ آثار، شائبہ، نشان، علامات۔ "بھلمنساہت کی باس نہیں ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٢٧:١ )

اصل لفظ: واس
جنس: مؤنث